+92-308-6112254

Tarjuma Kanzul Iman

2 - Al Baqarah
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْہُ۰ۭ۝ وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ۰۠۝ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَـمَا عَلَّمَہُ اللہُ فَلْيَكْتُبْ۰ۚ۝ وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْہِ الْحَـقُّ وَلْيَتَّقِ اللہَ رَبَّہٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْہُ شَـيْــــًٔـا۰ۭ۝ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْہِ الْحَـقُّ سَفِيْہًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّـمِلَّ ھُوَفَلْيُمْلِلْ وَلِــيُّہٗ بِالْعَدْلِ۰ۭ۝ وَاسْتَشْہِدُوْا شَہِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ۰ۚ۝ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَاۗءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىھُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىہُمَا الْاُخْرٰى۰ۭ۝ وَلَا يَاْبَ الشُّہَدَاۗءُ اِذَا مَا دُعُوْا۰ۭ۝ وَلَا تَسْــَٔـــمُوْٓا اَنْ تَكْتُبُوْہُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰٓى اَجَلِہٖ۰ۭ۝ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ وَاَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَاَدْنٰٓى اَلَّاتَرْتَابُوْٓا اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِيْرُوْنَہَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْھَا۰ۭ۝ وَاَشْہِدُوْٓا اِذَا تَبَايَعْتُمْ۰۠۝ وَلَا يُضَاۗرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَہِيْدٌ۰۝ۥۭ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّہٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ۰ۭ۝ وَاتَّقُوا اللہَ۰ۭ۝ وَيُعَلِّمُكُمُ اللہُ۰ۭ۝ وَاللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ﴿282﴾
اے ایمان والوں جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو () تو اسے لکھ لو اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللّٰہ نے سکھایا ہے تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھاتا جائے اور اللّٰہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بے عقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس ایک کو دوسری یاد دلادےاورگواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں () اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللّٰہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اور اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو توا س کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو اور نہ کسی لکھنے والے کو ضرر دیا جائے نہ گواہ کو ( یا نہ لکھنے والا ضرر دے نہ گواہ) اور جو ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا اور اللّٰہ سے ڈرو اور اللّٰہ تمہیں سکھاتا ہے اوراللّٰہ سب کچھ جانتا ہے
Join Our Online Tajveed Course Classes
Flag Counter
Top