+92-308-6112254

Tarjuma Kanzul Iman

13 - Ar Raad
لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ۰ۭ۝ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَہُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْہِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ہُوَبِبَالِغِہٖ۰ۭ۝ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ﴿14﴾
اسی کا پکارنا سچّا ہے اور اس کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منھ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گااور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے
وَلِلہِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًاوَّكَرْہًا وَّظِلٰلُہُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۩﴿15﴾
اور اللّٰہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے خواہ مجبوری سے اور ان کی پرچھائیاں ہر صبح و شام
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۰ۭ۝ قُلِ اللہُ۰ۭ۝ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِيَاۗءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا۰ۭ۝ قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۰۝ۥۙ اَمْ ہَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ۰۝ۥۚ اَمْ جَعَلُوْا لِلہِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَيْہِمْ۰ۭ۝ قُلِ اللہُ خَالِـقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّہُوَالْوَاحِدُ الْقَہَّارُ﴿16﴾
تم فرماؤ کون رب ہے آسمانوں اور زمین کا تم خود ہی فرماؤ اللّٰہ تم فرماؤ تو کیا اس کے سوا تم نے وہ حمایتی بنالئے ہیں جو اپنا بھلا برا نہیں کرسکتے ہیں تم فرماؤ کیا برابر ہوجائیں گے اندھا اور انکھیارا یا کیا برابر ہوجائیں گی اندھیریاں اور اجالا کیا اللّٰہ کے لئے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنہوں نے اللّٰہ کی طرح کچھ بنایا تو انہیں ان کا اور اس کا بنانا ایک سا معلوم ہوا تم فرماواللّٰہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا۰ۭ۝ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْہِ فِي النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَۃٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُہٗ۰ۭ۝ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ۰۝ۥۭ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْہَبُ جُفَاۗءً۰ۚ۝ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ۰ۭ۝ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ﴿17﴾
اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی اور جس پر آ گ دہکاتے ہیں گہنا یا اور اسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللّٰہ بتاتا ہے کہ حق اور باطل کی یہی مثال ہے تو جھاگ توپُھک کر دور ہوجاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے اللّٰہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے
لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰى۰ۭؔ۝ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَہٗ لَوْ اَنَّ لَہُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَہٗ مَعَہٗ لَافْتَدَوْا بِہٖ۰ۭ۝ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ۰۝ۥۙ وَمَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ۰ۭ۝ وَبِئْسَ الْمِہَادُ﴿18﴾
جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اُنہیں کے لئے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی مِلک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کودے دیتے یہی ہیں جن کا بُرا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنّم ہے اور کیا ہی برا بچھونا
Join Our Online Tajveed Course Classes
Flag Counter
Top